Thursday, 2 March 2023

راہ وفا پہ کم ہیں خسارے ہمارے دوست

راہ وفا پہ کم ہیں خسارے ہمارے دوست

ہیں اس سفر کے اپنے ستارے ہمارے دوست

کچھ سانپ چاہیے تھے خزانے کے واسطے

اتنے میں آستیں سے پکارے ہمارے دوست

اک دن سنبھل ہی جاتا ہے دنیا سے ہارا شخص

لیکن جو اپنے آپ سے ہارے ہمارے دوست

دشمن کی ہم کو کوئی ضرورت نہیں پڑی

کینہ بہ سینہ پھرتے ہیں سارے ہمارے دوست

ہم نے غزل کی اوٹ سے سب کچھ بتا دیا

لیکن سمجھ نہ پائے اشارے ہمارے دوست


عقیل شاہ

No comments:

Post a Comment