Thursday, 2 March 2023

امروز کی کشتی کو ڈبونے کے لیے ہوں

 امروز کی کشتی کو ڈبونے کے لیے ہوں

کل اور کسی رنگ میں ہونے کے لیے ہوں

تو بھی ہے فقط اپنی شہادت کا طلب گار

میں بھی تو اسی درد میں رونے کے لیے ہوں

جینے کا تقاضا مجھے مرنے نہیں دیتا

مر کر بھی سمجھتا ہوں کہ ہونے کے لیے ہوں

ہاتھوں میں مِرے چاند بھی لگتا ہے کھلونا

خوابوں میں فلک رنگ سمونے کے لیے ہوں

ہر بار یہ شیشے کا بدن ٹوٹ گیا ہے

ہر بار نئے ایک کھلونے کے لیے ہوں

پردیس کی راتوں میں بہت جاگ چکا میں

اب گھر کا سکوں اوڑھ کے سونے کے لیے ہوں

سینے میں کوئی زخم کہ کھلنے کے لیے ہے

آنکھوں میں کوئی اشک کہ رونے کے لیے ہوں

سادہ سی کوئی بات نہیں بھوک شکم کی

ایمان بھی روٹی میں سمونے کے لیے ہوں

وہ دشت و بیابان میں اظہار کا خواہاں

میں اپنے چمن زار میں رونے کے لیے ہوں

غاروں کا سفر ہے کہ مکمل نہیں ہوتا

میں اپنی خبر آپ ہی ڈھونے کے لیے ہوں

سورج کو نکلنے میں ذرا دیر ہے احمد

پھر ذات کا ہر رنگ میں کھونے کے لیے ہوں


احمد شناس

No comments:

Post a Comment