ہجر کا حل نہیں اس ہجر میں خود حل ہو جا
مجھ سے دانائی مِری کہتی ہے؛ پاگل ہو جا
رنگ جتنے بھی مِرے پاس تھے سب بھر دئیے ہیں
اب تو اے یار کی تصویر! مکمل ہو جا
قطرۂ اشک سہی، کام لے دریا دلی سے
اُٹھ کے پلکوں سے مِرے شہر پہ بادل ہو جا
کب تلک شانوں پہ سر رکھے گا تہمت کی طرح
آبرو پیاری ہے تو داخلِ مقتل ہو جا
اور دیکھا نہیں جاتا تِرا جانا مجھ سے
جانے والے تُو مِری آنکھ سے اوجھل ہو جا
دیکھ نائب ہوں یہاں کُن فیکوں کے رب کا
ہو جا آسان تُو اے کارِ جہاں! چل ہو جا
عقیل شاہ
No comments:
Post a Comment