تنہائیوں میں بیٹھ کے یہ سوچنا بھی ہے
یہ کون آئینہ بھی پسِ آئینہ بھی ہے
میں تم کو دیکھنے میں ہوا محو اس قدر
یہ بھی رہا نہ یاد کہ کچھ بولنا بھی ہے
جب سے تمہارا قرب میسر ہوا مجھے
دل جھومتا ہے، گاتا ہے، ناچتا بھی ہے
سچ سچ بتاؤ تم کو یہ احساس کب ہوا
تم سے زیادہ تم کو کوئی چاہتا بھی ہے
میں تو سمجھ رہا تھا کہ تنہا ہوں میں یہاں
خوشبو بتا رہی ہے کوئی دوسرا بھی ہے
مے خانۂ وفا کو یوں بدنام مت کرو
موجود ایک رِند یہاں پارسا بھی ہے
جان اسد غزل میں میں لے لو تمہارا نام
موقع بھی ہے محل بھی ہے ہم قافیہ بھی ہے
اسد ہاشمی
No comments:
Post a Comment