ہجر ہے اور ہجر میں اپنا یہ حال کیجیے
چہرہ تو زرد ہو چکا آنکھوں کو لال کیجیے
میں تو فقیرِ مست ہوں یعنی خمیرِ مست ہوں
کس نے کہا ہے آپ سے میرا خیال کیجیے
وہ تو یہ کہہ کہ چل دیا جینا بھی اک کمال ہے
جینا بھی اک کمال ہے،۔ آپ کمال کیجیے
گھر میں لگا کے آئینہ رہیے پھر اس کے رو برو
سب سے وصال ہوچکا خود سے وصال کیجیے
جسم ہے اور جسم کو کیجے سپردِ تشنگی
وصل ہے اور وصل میں خود کو نڈھال کیجیے
یعنی جواب جو بھی ہو مرنا نہیں سوال کو
دیتا رہے جواب وہ،۔ آپ سوال کیجیے
میرے سکوں کی آپ کو فکر ہی کیوں ہے اس قدر
آپ کی دست رس میں ہوں جینا مُحال کیجیے
پردہ بنا کے لفظ کو مصرع تراشیے جناب
مصرع تراشیے جناب حرف نہال کیجیے
آئی ہے نیند رات کو،۔ دینے نمو ثبات کو
آنکھوں میں خواب کھینچ کر اس کو خیال کیجیے
زیب اورنگ زیب
No comments:
Post a Comment