Sunday, 9 January 2022

ایک بوسے نے دو لبوں کے درمیان آگ لگا دی

 بوسہ


اُس کی دو آنکھوں میں گناہ ہنس رہا تھا

اُس کے چہرے پر ماہ کا نور ہنس رہا تھا

اُن خاموش لبوں کی گذرگاہ میں

ایک بے یاور شعلہ ہنس رہا تھا


شرمائے ہوئے اور ایک گونگی نیاز سے پُر

مستی کا رنگ رکھنے والی ایک نگاہ کے ساتھ

میں نے اُس کی دو آنکھوں میں نگاہ کی اور اُس نے کہا:

عشق سے ایک ثمر چُن لینا چاہیے


ایک سایہ ایک سائے پر خم ہوا

شب کی راز پرور نہاں گاہ میں

ایک سانس ایک گال پر پھسلی

ایک بوسے نے دو لبوں کے درمیان آگ لگا دی


فروغ فرخ زاد

فارسی شاعری سے اردو ترجمہ

No comments:

Post a Comment