ستم کے راج میں میں پا شکستہ کیا کرتا
کھڑا نہ رہتا اگر دست بستہ، کیا کرتا
حدِ نگاہ تلک دوسرا نہیں مسکن
جو میرے گھر بھی نہ آتا تو رستہ کیا کرتا
خرید لیتا کسی شاہ کا جلال مجھے
اب اپنے آپ کو اتنا بھی سستا کیا کرتا
اسے تو رزق کمانا تھا چھوٹی عمر سے ہی
سو وہ کتاب، قلم اور بستہ کیا کرتا
جواب ہمتِ سالار دے چکی تھی عقیل
پہنچ بھی جاتا اگر تازہ دستہ، کیا کرتا
عقیل شاہ
No comments:
Post a Comment