کون ہے اب کے وفا جو کرے
درد کی میرے دوا جو کرے
عشق سے دور رہے وہ سدا
دیکھ کے سُولی گِلہ جو کرے
دل میں مِرے وہ بسے گا کیا
دور ہی دور رہا جو کرے
حسن وہ آئے کہاں سے بتا
خوش کہ تجھے بھی سدا جو کرے
لاؤ، کہیں سے وفا کو ابھی
میرے سکوں کی دوا جو کرے
ساقی یہ جام نظر سے پلا
درد کو میرے سوا جو کرے
جہل سے رانجھے گزر کہ گزر
نور ہی نور ملا جو کرے
شہباز امبر رانجھا
No comments:
Post a Comment