Saturday, 19 February 2022

کون ہے اب کے وفا جو کرے

 کون ہے اب کے وفا جو کرے

درد کی میرے دوا جو کرے

عشق سے دور رہے وہ سدا

دیکھ کے سُولی گِلہ جو کرے

دل میں مِرے وہ بسے گا کیا

دور ہی دور رہا جو کرے

حسن وہ آئے کہاں سے بتا

خوش کہ تجھے بھی سدا جو کرے

لاؤ، کہیں سے وفا کو ابھی

میرے سکوں کی دوا جو کرے

ساقی یہ جام نظر سے پلا

درد کو میرے سوا جو کرے

جہل سے رانجھے گزر کہ گزر

نور ہی نور ملا جو کرے


شہباز امبر رانجھا

No comments:

Post a Comment