Saturday, 19 February 2022

ایک لمحے میں توکل کا سبو ٹوٹ گیا

 ایک لمحے میں توکل کا سبُو ٹوٹ گیا

کرنے آیا جو مرے خواب رفُو، ٹوٹ گیا

میری تلوار سے ٹوٹا نہ اناؤں کا فسوں

اس کے بس آنکھ ملانے سے عدو ٹوٹ گیا

اس سہولت سے ہٹا اس کی غزل سے پردہ

پاس بیٹھے ہوئے شاعر کا وضو ٹوٹ گیا

میں یہاں آیا ہوں پھولوں کی حفاظت کے لیے

فائدہ کیا مِرے ہوتے بھی جو تُو ٹوٹ گیا

آدمی ٹوٹ گئے سانس کی دشواری سے

دل کے خلیوں تلک آتا تھا لہو ٹوٹ گیا

میرے دامانِ دریدہ سے خبردار رہو

پھر نہ کہنا کہ مرا خوابِ نمو ٹوٹ گیا


احمد زوہیب

No comments:

Post a Comment