ہوئے وقتِ آخری مہرباں،۔ دمِ اولیں جو خفا ہوئے
وہ ابد میں آ کے گلے ملے جو ازل میں ہم سے جدا ہوئے
یہ الٰہی کیسا غضب ہوا؟ وہ سمائے مجھ میں تو کیا ہوئے
مِرا دل بنے تو تڑپ گئے، مرا سر بنے تو جدا ہوئے
گرے ذات میں تو ہے جملہ اوست اٹھے جب صفت میں ہمہ از دست
کہا کون ہو؟ تو ملے رہے،۔ کہا نام کیا؟ تو جدا ہوئے
وہی فرش و عرش نشیں رہے ہوئے نام الگ جو کہیں رہے
گئے دیر میں تو صنم بنے،۔ گئے لا مکاں تو خدا ہوئے
جو تصور ان کا جدا ہوا، دل بے خبر نے یہ دی صدا
ابھی ہم بغل تھے کدھر گئے ابھی گود میں تھے وہ کیا ہوئے
پس وصل ہم جو سرک گئے تو وہ کھلکھلا کے پھڑک گئے
کہا شوخیوں نے؛ چلو ہٹو کہ حضور تم سے خفا ہوئے
تمہیں لوگ کہتے ہیں نوجواں کہ ہو بیس تیس کے درمیاں
کہو مجھ سے مائل خوش بیاں وہ تمہارے ولولے کیا ہوئے
احمد حسین مائل
No comments:
Post a Comment