کسی موسم کا جھونکا تھا
جو اس دیوار پر لٹکی ہوئی تصویر تِرچھی کر گیا
گئے ساون میں یہ دیواریں یوں سیلی نہیں تھیں
نہ جانے اس دفعہ کیوں ان میں سیلن آ گئی ہے
دراڑ پڑ گئی ہے اور سیلن اس طرح بہتی ہے
جسے خشک رخساروں پہ گیلے آنسو چلتے ہیں
یہ بارش گنگناتی تھی
اسی چھت کی منڈیروں پر یہ بارش
گنگناتی تھی
اسی چھت کی منڈیروں پر
یہ گھر کی کھڑکیوں کے کانچ پر
انگلی سے لکھ جاتی تھی سندیسے
بلکتی رہتی ہے بیٹھی ہوئی اب بند
روشندانوں کے پیچھے
دوپہریں ایسی لگتی ہیں
بِنا مہروں کے خالی خانے رکھے ہیں
نہ کوئی کھیلنے والا ہے بازی
نہ کوئی چال چلتا ہے
دن ہوتا ہے نہ اب رات ہوتی ہے
سبھی کچھ رک گیا ہے
وہ کیا موسم کا جھونکا تھا
جو اس دیوار پر لٹکی ہوئی تصویر تِرچھی کر گیا
گلزار
No comments:
Post a Comment