Saturday, 1 October 2022

بساط شوق کے منظر بدلتے رہتے ہیں

 بساطِ شوق کے منظر بدلتے رہتے ہیں

ہوا کے رنگ برابر بدلتے رہتے ہیں

بُتانِ رنگ بھی کچھ کم نہیں ہیولوں سے

قدم قدم پہ، یہ پیکر بدلتے رہتے ہیں

چُھپائے چھپتی نہیں ان سے کُہنگی دل کی

نئے لباس وہ ہر دم بدلتے رہتے ہیں

رہی نہیں کبھی یکرنگ آسماں کی جبیں

حروف لوحِ مقدر بدلتے رہتے ہیں

قیام کرتا نہیں دل میں چار دن کوئی

مکین خانۂ بے در بدلتے رہتے ہیں

بہت نیا تھا جو کل اب وہی پرانا ہے

مزارِ دہر کے پتھر بدلتے رہتے ہیں


زاہد فارانی

No comments:

Post a Comment