Sunday, 17 October 2021

اپنوں کے ستم یاد نہ غیروں کی جفا یاد

 اپنوں کے ستم یاد نہ غیروں کی جفا یاد

وہ ہنس کے ذرا بولے تو کچھ بھی نہ رہا یاد

کیا لطف اٹھائے گا جہان گزراں کا

وہ شخص کہ جس شخص کو رہتی ہو قضا یاد

ہم کاگ اڑا دیتے ہیں بوتل کا اسی وقت

گرمی میں بھی آ جاتی ہے جب کالی گھٹا یاد

محشر میں بھی ہم تیری شکایت نہ کریں گے

آ جائے گی اس دن بھی ہمیں شرطِ وفا یاد

پی لی تو خدا ایک تماشہ نظر آیا

آیا بھی تو آیا ہمیں کس وقت خدا یاد

اللہ تِرا شکر کہ امیدِ کرم ہے

اللہ تِرا شکر کہ اس نے بھی کیا یاد

کل تک تِرے باعث میں اسے بھولا ہوا تھا

کیوں آنے لگا پھر سے مجھے آج خدا یاد


دوارکا داس شعلہ

No comments:

Post a Comment