Monday, 14 February 2022

خبر کہاں تھی مجھے پہلے اس خزانے کی

 خبر کہاں تھی مجھے پہلے اس خزانے کی

غموں نے راہ دکھائی شراب خانے کی

چراغ دل نے کی حسرت جو مسکرانے کی

تو کھلکھلا کے ہنسیں آندھیاں زمانے کی

میں شاعری کا ہنر جانتا نہیں بے شک

عجیب دھن ہے مجھے قافیہ ملانے کی

وجود اپنا مٹایا کسی کی چاہت میں

بس اتنی رام کہانی ہے اس دیوانے کی

وہ گھونسلہ بھی بنا لے گا بعد میں اپنا

ابھی ہے فکر پرندے کو آب و دانے کی

میں اشک بن کے گرا ہوں خود اپنی نظروں سے

کہاں ملے گی جگہ مجھ کو سر چھپانے کی

اناتھ بچوں کی آہیں سوال کرتی ہیں

خدا کو کیا تھی ضرورت جہاں بنانے کی


دنیش کمار

No comments:

Post a Comment