ہنر نہیں جو ہواؤں کے پر کترنے کا
رہے گا خوف ہمیشہ ہی بجھ کے مرنے کا
ہم آئینوں کے مخاطب نہ ہو سکیں گے کبھی
ہمیں تو خطرہ ہے اپنا نقاب اترنے کا
وفا کی راہ پہ مرنا بھی تھا مجھے منظور
کوئی تو ہو گا سبب میرے اب مُکرنے کا
دراڑ بڑھتی ہے بڑھ جائے بدگمانی کی
ارادہ میرا بھی ان سے نہ بات کرنے کا
نہ اس نے دل سے مجھے روکنے کی کوشش کی
نہ میرے پاس سمے تھا وہاں ٹھہرنے کا
سفید ہونے لگیں ہیں ہماری بھی قلمیں
نشان پڑنے لگا وقت کے گزرنے کا
فلک سے راہنمائی دنیش! نے کی تھی
سوال اٹھتا کہاں ظُلمتوں سے ڈرنے کا
دنیش کمار
No comments:
Post a Comment