Wednesday, 5 January 2022

ہنر نہیں جو ہواؤں کے پر کترنے کا

 ہنر نہیں جو ہواؤں کے پر کترنے کا

رہے گا خوف ہمیشہ ہی بجھ کے مرنے کا

ہم آئینوں کے مخاطب نہ ہو سکیں گے کبھی

ہمیں تو خطرہ ہے اپنا نقاب اترنے کا

وفا کی راہ پہ مرنا بھی تھا مجھے منظور

کوئی تو ہو گا سبب میرے اب مُکرنے کا

دراڑ بڑھتی ہے بڑھ جائے بدگمانی کی

ارادہ میرا بھی ان سے نہ بات کرنے کا

نہ اس نے دل سے مجھے روکنے کی کوشش کی

نہ میرے پاس سمے تھا وہاں ٹھہرنے کا

سفید ہونے لگیں ہیں ہماری بھی قلمیں

نشان پڑنے لگا وقت کے گزرنے کا

فلک سے راہنمائی دنیش! نے کی تھی

سوال اٹھتا کہاں ظُلمتوں سے ڈرنے کا


دنیش کمار

No comments:

Post a Comment