Wednesday, 5 January 2022

بوجھ یادوں کا ڈھو نہیں پائے

 بوجھ یادوں کا ڈھو نہیں پائے

داغ دامن کے دھو نہیں پائے

نیند پہلو میں رات کے جاگی

بے خبر ہم بھی سو نہیں پائے

وہ کسی غیر کا بِنا ساتھی

ہم تو خود کے بھی ہو نہیں پائے

ایک مدت سے غمزدہ ہم ہیں

ایک مدت سے رو نہیں پائے

تجھ سے بچھڑے تو ہم ادھورے تھے

پھر مکمل بھی ہو نہیں پائے


منزہ نور

No comments:

Post a Comment