سراپا چشم پُر نم بن گئے ہیں
گُنہگاروں سے آدم بن گئے ہیں
معلّق تھے جو مستقبل میں لمحے
وہ اب تقدیر مبرم بن گئے ہیں
محبت کے قدم جن پر پڑے تھے
وہ پتھر آبِ زمزم بن گئے ہیں
کمالِ وصل تھے جو چند لمحے
ابھی اک خوابِ مبہم بن گئے ہیں
تمہارے لمس میں جادو ہے کیسا
ہمارے زخم مرہم بن گئے ہیں
سرِ تسلیم خم جب کر لیا ہے
جو چاہا آپ نے ہم بن گئے ہیں
ہمارے چاک دامن سے ہدایت
جنوں کے لاکھ پرچم بن گئے ہیں
ہدایت اللہ
No comments:
Post a Comment