Wednesday, 5 January 2022

بوند کو بوند سمندر کو سمندر کہنا

بوند کو بوند سمندر کو سمندر کہنا

سامنے کوئی ہو سچائی کو کھل کر کہنا

قافلے والوں کے اس صبر و تحمل کو سلام

کوئی آسان ہے رہزن کو بھی رہبر کہنا

نیکیاں ملتی ہیں نسبت سے بزرگوں کی میاں

یہ بھی تبلیغ ہے اس بات کو گھر گھر کہنا

باز با باز کبوتر با کبوتر رکھیے

کچھ مناسب نہیں ہر اک کو ہمسر کہنا

گفتگو کے ہیں کچھ آداب غزل والوں میں

زلف کو کالی گھٹا آنکھ کو ساغر کہنا


ماجد علی کاوش

No comments:

Post a Comment