Wednesday, 5 January 2022

جنس گراں کا میں ہوں خریدار دوستو

 جنس گراں کا میں ہوں خریدار دوستو

آخر کہاں ہے مصر کا بازار دوستو

شائستۂ خطا ہیں مِری بے گناہیاں

ناکردہ جرم کا ہوں سزاوار دوستو

ان گمرہان جادہ و منزل کی خیر ہو

رہبر نہ کوئی قافلہ سالار دوستو

پر پیچ زندگی کی وہ راہیں کہ الاماں

یاد آ گیا ہے کاکلِ خمدار دوستو

اب تک تلاش کرتی ہے تعمیر کائنات

بزم جنوں میں ایک تھا ہشیار دوستو

آیا حیات عشق کی عظمت کا جب خیال

بڑھ کر صدا دی میں نے سرِ دار دوستو

کھل کر زباں سے کرتے ہیں اظہار دشمنی

بہتر ہیں آج تم سے یہ اغیار دوستو

منزل تو دے رہی ہے صدا آج بھی مگر

خود بن گیا ہوں راہ میں دیوار دوستو


رضا جونپوری

No comments:

Post a Comment