Monday, 17 January 2022

وہ خوف جاں تھا کہ لب کھولنا گوارا نہ تھا

 وہ خوف جاں تھا کہ لب کھولنا گوارا نہ تھا

صدائیں سہمی کچھ ایسی سخن کا یارا نہ تھا

تمام اپنے پرائے کٹے کٹے سے رہے

چھری جو چمکی تو اس نے کسے پکارا نہ تھا

رخ کماں تھا ادھر, تیر کا نشانہ ادھر

ہمارا دوست تو تھا اور مگر ہمارا نہ تھا

رفو طلب نظر آتا ہے دیکھیے جس کو

لباس جاں تو کبھی اتنا پارہ پارہ نہ تھا

خدا کرے کہ رہے مہرباں سدا تم پر

عزیزو وقت کہ اک لمحہ بھی ہمارا نہ تھا

اڑانیں بھرتے پرندوں کے پر کتر ڈالیں

نظر کے سامنے ایسا کبھی نظارہ نہ تھا

ہے دور حد نظر سے تو کیا قیامت ہے

ہمارے پاس تھا جب تک وہ اتنا پیارا نہ تھا


نصر غزالی

No comments:

Post a Comment