Tuesday, 1 November 2022

تعبیر جانتی ہے سر دار کیوں ہوئے

 تعبیر جانتی ہے سر دار کیوں ہوئے

ہم خواب دیکھنے کے گنہگار کیوں ہوئے 

بازار طوطا چشم سے لوٹو تو پوچھنا

ہم بے مروتی کے خریدار کیوں ہوئے 

ہم پر عتاب دھوپ کا ہے تو سبب بھی ہے 

دشتِ الم میں سایۂ دیوار کیوں ہوئے 

احباب کی ہے بات کہیں تو کسے کہیں 

ہم سانپ پالنے کے گنہگار کیوں ہوئے 

پل بھر ہمارے گھر میں بھی پھر ہم سے پوچھنا 

اس کاٹ کھاتی قبر سے بیزار کیوں ہوئے 

طرفہ نہ کیوں لہو کا ہو بے حد و بے حساب 

ہم شہر کاروبار میں فنکار کیوں ہوئے 

ہاں لائق سزا ہیں کہ بزم غزل میں بھی 

ہم لوگ مرثیہ کے طلبگار کیوں ہوئے


نصر غزالی

No comments:

Post a Comment