Sunday, 4 December 2016

سات پینٹنگ تصویر وہ بناؤں کہ مسحور ہو سکوں

سات پینٹنگ 

تصویر وہ بناؤں کہ مسحور ہو سکوں
ایسے خطوط کھینچوں کہ مغرور ہو سکوں

(1)
اک نوجواں کو شہر میں تشویشِ روزگار
اور دور ایک گاؤں میں برسات کی بہار
ہاتھوں میں اک حسینہ کے ٹوٹا ہوا ستار
(2)
دریا سے ہٹ کے سامنے چھوٹا سا ایک گاؤں
پگڈنڈیوں سے دور پیپلوں کی چھاؤں
یہ دھندلی دھندلی صورتیں، یہ میلے میلے پاؤں
(3)
موجوں کے رخ پر چھوٹی سی کشتی رواں دواں
دریا کے اس بہاؤ سے ملاح بد گماں
ساحل کے ایک جھونپڑے میں موت کا سماں
(4)
کچھ لوگ محوِ سیرِ چمن زار شالامار
ہنستا ہے سامراج کی دولت کا شاہکار
پھاٹک پہ ہٹ کے میلے فقیروں کی اک قطار
(5)
سونے کا ماہتاب مناروں کے درمیاں
چاندی کا آفتاب چناروں کے درمیاں
اور اک خدا فضائی نظاروں کے درمیاں
(6)
زنداں کی ایک شمع پہ پروانے مضطرب
اور اپنی اپنی فکر میں دیوانے مضطرب
باہر حیاتِ تازہ کے افسانے مضطرب
(7)
سڑکوں پہ انقلاب کی گونجی ہوئی صدا
کالج کے ایک ہال میں دنیا پہ تبصرہ
اک نوجواں کے ہاتھ میں اخبار آج کا

موضوع اتنے جیسے کہ گھبرا رہا ہوں میں
شاید کہ اپنی فکر پہ خود چھا رہا ہوں میں

سلام مچھلی شہری

No comments:

Post a Comment