Saturday, 19 March 2022

جو لب پہ خیر الوریٰ کے آیا وہ لفظ فرمان ہو گیا ہے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام

 

جو لب پہ خیر الوریٰؐ کے آیا وہ لفظ فرمان ہو گیا ہے

بہارِ مدحت کا ہے وہ مژدہ، ثنا کا عنوان ہو گیا ہے

چمک اٹھی پھر حسین محفل، درودِ خیر البشرؐ کی ضو سے

چلا ہے ذکرِ حضورؐ جب بھی وہ نورِ عرفان ہو گیا ہے

دیارِ طیبہ میں شب گزارے، جہاں محبت کے ہیں نظارے

جو مدتوں سے ترس رہا تھا وہ انؐ کا مہمان ہو گیا ہے

رسولِ اکرمؐ کی پیروی میں گزاری جس نے حیات اپنی

غریب و نادار وہ گدا بھی، جہاں کا سلطان ہو گیا ہے

وہی ہے عشقِ نبیؐ میں کامل ہے، وہی ہے حبِ نبیؐ کا وارث

رہِ محبت میں چلتے چلتے فنا جو انسان ہو گیا ہے

ملیں ضیائیں مجھے ہنر کی، وقارِ صوت و صدا بھی نکھرا

رسولِ رحمتؐ کا ذکرِ انور، اسی کی پہچان ہو گیا ہے

نہیں ہے گوہرؔ تمہیں سلیقہ کہ پھول الفاظ کے سجاؤ

جو کہہ رہے ہو ثنائے خواجہؐ، خدا کا احسان ہو گیا ہے


گوہر ملسیانی

No comments:

Post a Comment