ایک امید پہ بازار کو تکتے رہنا
کتنا مشکل ہے خریدار کو تکتے رہنا
یہ ضروری تو نہیں ہے کہ کوئی بات کرو
تم وہاں بیٹھ کے بیمار کو تکتے رہنا
اس نے دیوار پہ تصویر لگا دی اپنی
اور کہنے لگا؛ دیوار کو تکتے رہنا
اے خدا تجھ سے فقط ایک گزارش ہے مِری
اے خدا! اپنے گنہ گار کو تکتے رہنا
میں نے سیکھا ہے محبت کے سفر سے احمد
تیر کھاتے ہوئے سالار کو تکتے رہنا
احمد منیب
No comments:
Post a Comment