Monday, 18 October 2021

ایک امید پہ بازار کو تکتے رہنا

 ایک امید پہ بازار کو تکتے رہنا

کتنا مشکل ہے خریدار کو تکتے رہنا

یہ ضروری تو نہیں ہے کہ کوئی بات کرو

تم وہاں بیٹھ کے بیمار کو تکتے رہنا

اس نے دیوار پہ تصویر لگا دی اپنی

اور کہنے لگا؛ دیوار کو تکتے رہنا

اے خدا تجھ سے فقط ایک گزارش ہے مِری

اے خدا! اپنے گنہ گار کو تکتے رہنا

میں نے سیکھا ہے محبت کے سفر سے احمد

تیر کھاتے ہوئے سالار کو تکتے رہنا


احمد منیب

No comments:

Post a Comment