پھولوں کی بات دور ترستا ہوں خار کو
جی چاہتا ہے آگ لگا دوں بہار کو
پتا کوئی بچا ہے تِرے واسطے بتا؟
اب سر پہ دھر کے ناچ چمن میں بہار کو
کانوں میں تیل ڈال کے سوئے پڑے ہیں لوگ
کس کو دماغ سن لے کسی کی پکار کو
اب چاہتے ہیں پوری کہانی سناؤں میں
کرتے تھے جو پسند فقط اختصار کو
میرے لیے ہوا ہوا نہ ہو گا کبھی وہ نرم
روتا رہوں گا میں یوں ہی پروردگار کو
مضمون باندھتا ہے سخن میں نئے نئے
کندن بڑھا رہا ہے غزل کے وقار کو
کندن اراولی
کندن سنگھ
No comments:
Post a Comment