Thursday, 12 November 2020

بعد مکیں مکاں کا گر بام رہا تو کیا ہوا

بعد مکیں مکاں کا گر بام رہا تو کیا ہوا

آپ ہی جب رہے نہیں نام رہا تو کیا ہوا

چشم سے کیا ہے فائدہ دل میں نہ ہو جو ذوق دید

شیشے میں مے نہ جب رہے جام رہا تو کیا ہوا

ہم سے غریب بھی بھلا مجرے کے باریاب ہوں

اذن تیرا کبھی کبھی عام رہا تو کیا ہوا

غیر وفا میں پختہ ہیں یوں ہی سہی پہ مجھ سا بھی

ایک تِری جناب میں خام رہا تو کیا ہوا

رم تو تِرا سبھوں سے ہے اے بُت من ہرن بھلا

اپنے حضور سے کبھی رام رہا تو کیا ہوا


حضورعظیم آبادی

غلام یحییٰ 

No comments:

Post a Comment