Thursday, 12 November 2020

جسم کی منڈیر پر بیٹھی موت

 جسم کی منڈیر پر بیٹھی موت


ستارے تمام رات آسمان کو گھورتے ہیں

بحری جہازوں میں بیٹھے مسافر چاند کو تکتے ہوئے

اپنے خوابوں کو یاد کرتے ہیں

چرخہ کاتنے والی بڑھیا بد دعائیں کات رہی ہے

خدا نے شیطان کے ساتھ خفیہ معاہدہ کر رکھا ہے

ایک ہی مدار میں چلتے چلتے زمین تنگ آ چکی ہے

اندھیرا صبح ہونے تک خونخوار کتے کی طرح غرّاتا ہے

چوکیدار کی آنکھوں سے رات کی لمبائی معلوم کی جا سکتی ہے

خودکشیاں بڑھنے سے عزرائیل کی تنخواہ گھٹتی جا رہی ہے

مردہ گھر میں رکھی لاشیں کلیئرنس نہ ملنے کی وجہ سے

اپنی قبروں کا پتہ بھول چکی ہیں

شاعر فجر کی اذان ہونے تک لفظوں سے مباشرت کرتے ہیں

جیب کترے پرندوں کی جیب سے

جنگل کے خواب چرا کر لے جاتے ہیں

سمندر اداس ہے، کچھوے جوان مچھلیوں کو اغوا کر رہے ہیں

پلیٹ فارم پر کھڑی ٹرین

بارش کو گالیاں دے رہی ہے

سورج کچھ دیر سائے میں بیٹھنے کے لیے

دیوار کی مِنتیں کر رہا ہے

ایک جزیرہ (یعنی میں)

زندگی کا انتظار کرتے کرتے مر گیا ہے


ذیشان راٹھور

No comments:

Post a Comment