جسم کی منڈیر پر بیٹھی موت
ستارے تمام رات آسمان کو گھورتے ہیں
بحری جہازوں میں بیٹھے مسافر چاند کو تکتے ہوئے
اپنے خوابوں کو یاد کرتے ہیں
چرخہ کاتنے والی بڑھیا بد دعائیں کات رہی ہے
خدا نے شیطان کے ساتھ خفیہ معاہدہ کر رکھا ہے
ایک ہی مدار میں چلتے چلتے زمین تنگ آ چکی ہے
اندھیرا صبح ہونے تک خونخوار کتے کی طرح غرّاتا ہے
چوکیدار کی آنکھوں سے رات کی لمبائی معلوم کی جا سکتی ہے
خودکشیاں بڑھنے سے عزرائیل کی تنخواہ گھٹتی جا رہی ہے
مردہ گھر میں رکھی لاشیں کلیئرنس نہ ملنے کی وجہ سے
اپنی قبروں کا پتہ بھول چکی ہیں
شاعر فجر کی اذان ہونے تک لفظوں سے مباشرت کرتے ہیں
جیب کترے پرندوں کی جیب سے
جنگل کے خواب چرا کر لے جاتے ہیں
سمندر اداس ہے، کچھوے جوان مچھلیوں کو اغوا کر رہے ہیں
پلیٹ فارم پر کھڑی ٹرین
بارش کو گالیاں دے رہی ہے
سورج کچھ دیر سائے میں بیٹھنے کے لیے
دیوار کی مِنتیں کر رہا ہے
ایک جزیرہ (یعنی میں)
زندگی کا انتظار کرتے کرتے مر گیا ہے
ذیشان راٹھور
No comments:
Post a Comment