فقط آسانیاں ہوتیں تو آسانی سے مر جاتے
پریشان گر نہیں ہوتے، پریشانی سے مر جاتے
خدا کا شکر ہے تم سے ملے تھے خواب میں ورنہ
حقیقت میں یہ سب ہوتا تو حیرانی سے مرجاتے
یہ سب محروم جیتے ہیں کسی امیدِ فردا پر
انہیں سب کچھ ہی مل جاتا فراوانی سے مر جاتے
ہم اہلِ دل کی فطرت میں عجب مشکل پسندی ہے
کوئی مشکل نہیں ہوتی تن آسانی سے مر جاتے
خرد نے عمر بھر ہی امتحانوں میں رکھا ہم کو
شاہین اس سے تو اچها تھا کہ نادانی سے مر جاتے
وسیم شاہین
No comments:
Post a Comment