Saturday, 9 January 2021

تصور کو جگا رکھا ہے اس نے

 تصور کو جگا رکھا ہے اس نے

دریچہ نیم وا رکھا ہے اس نے

ذرا سا پھول میرے باغ میں ہے

بہت کچھ ماورا رکھا ہے اس نے

بنا دیکھے گواہی مانگتا ہے

سوال اپنا جدا رکھا ہے اس نے

مِرے ہونے سے خود میرا تعلق

بہ رنگ انتہا رکھا ہے اس نے

مٹا دیتا ہے ہر تصویر میری

مجھے اپنا بنا رکھا ہے اس نے

ہماری پیاس قطروں میں لکھی ہے

مگر دریا بہا رکھا ہے اس نے

یہ سورج چاند تاروں کا زمانہ

بس اک لمحہ جلا رکھا ہے اس نے

بناوٹ برملا پھولوں کی صورت

کہ خوشبو کو چھپا رکھا ہے اس نے

کھڑی ہے راہ روکے خود فریبی

مجھے واپس بلا رکھا ہے اس نے

ہوا کا ہے نہ پانی کا کرشمہ

نفس کو خود جلا رکھا ہے اس نے

مجھے بے نام کر دیتا ہے احمد

کہ نام اپنا خدا رکھا ہے اس نے


احمد شناس

No comments:

Post a Comment