Friday, 10 December 2021

انہیں اپنا کہا ہے جب سے جینا آ گیا ہے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


انہیںؐ اپنا کہا ہے جب سے جینا آ گیا ہے

سرِ ساحل عقیدت کا سفینہ آ گیا ہے

خدا کا شکر ہے نام محمدﷺ ہے زباں پر

میرے عاجز سے ہاتھوں میں نگینہ آ گیا ہے

لگی ہے ہر گھڑی اب دل کو خواہش حاضری کی

کھلے جب آنکھ تو دیکھوں مدینہ آ گیا ہے

میں خوش ہوں زندگی داغ دھلنے لگ گئے ہیں

کہ رحمت کی گھٹاؤں کا مہینہ آ گیا ہے

نہا کر آ رہے ہیں عطر کی بارش میں جیسے

مدینے کی مسافت میں پسینہ آ گیا ہے

ہمیں دیکھو ہمیں گلفام کوئی غم نہیں ہے

ہمیں ہر دُکھ مٹانے کا قرینہ آ گیا ہے


گلفام نقوی

No comments:

Post a Comment