عارفانہ کلام نعتیہ کلام
شکستہ حال اپنے دل کو سمجھانے کہاں جاتے
نہ ملتا آستاں انﷺ کا تو دیوانے کہاں جاتے
گدا ہیں ان کے در کے بس یہی پہچان ہے اپنی
نہ ہوتے انﷺ سے وابستہ تو پہچانے کہاں جاتے
اُنہیﷺ سے عقدۂ پیچیدہ سارے حل ہوئے ورنہ
جہاں میں فلسفے جتنے بھی ہوں مانے کہاں جاتے
جھکایا سر یہاں تو سربلندی ہو گئی حاصل
یہی اک در ہے ورنہ خود پہ اِترانے کہاں جاتے
حیاتِ نو یہاں ملتی ہے اپنی جاں سے جانے میں
تو پھر اس شمع سے جاتے تو پروانے کہاں جاتے
خدا کا شکر ہے قسمت مجھے اس در پہ لے آئی
اٹھائے بوجھ عصیاں کا مِرے شانے کہاں جاتے
انہی سے بزمِ ہستی کی نمود و نام و آرائش
نہ ہوتے وہ اگر ہم میں تو ہم جانے کہاں جاتے
ہمیں نسبت ہماری ٹوٹنے دیتی نہیں عارف
بکھر جاتے تو اپنے آپ کو پانے کہاں جاتے
وحیدالقادری عارف
No comments:
Post a Comment