Wednesday, 8 December 2021

فطرت کا حسن جب کسی منظر میں آ گیا

 فطرت کا حسن جب کسی منظر میں آ گیا

نظمِ حیات مرکز و محور میں آ گیا

اس نے نظر نظر سے ملائی تو رنگ و نور

پھولوں میں آ گیا، مہ و اختر میں آ گیا

دل میں ہجومِ درد جو دیکھا تو یوں لگا

دل میرا جیسے عرصۂ محشر میں آ گیا

اقرارِ عشق اس نے کیا مجھ سے جس گھڑی

ایسے لگا؛ جہاں مِری ٹھوکر میں آ گیا

دیوانگی کہوں کہ اسے سادگی، وہ شخص

"دستک دئیے بغیر مِرے گھر میں آ گیا"

پھر کون ہو گا موتیوں ہیروں کا قدر دان

گوہر کا عکس گر کسی کنکر میں آ گیا

دیکھے ہیں ٹی وی پر وہ مناظر کہ الاماں

طوفانِ بدتمیزی ہر اک گھر میں آ گیا

گلفام دشمنی بھی تو لگتی ہے دوستی

سودائے عشق جب سے مِرے سر میں آ گیا


گلفام نقوی

No comments:

Post a Comment