Wednesday, 8 December 2021

دل دکھاتے نہ جملے کستے ہیں

دل دکھاتے، نہ جملے کستے ہیں

ہم سے بہتر ہمارے رستے ہیں

کیا عجب عشق جامعہ ہے جہاں

نہ کتابیں ہیں اور نہ بستے ہیں

ہم وہ سیڑھی ہیں جس پہ چڑھ کر لوگ

چاند چُھوتے ہیں ہم پہ ہنستے ہیں

دُنیا، ایسی دوکان ہے کہ جہاں

چیزیں مہنگی ہیں لوگ سستے ہیں

ہجر آباد سے گُزرتے ہوئے

تیری یادوں کے سانپ ڈستے ہیں

تُو کہاں ہے خُدائے خیر بتا

تیرے بندے تو شر کے دستے ہیں


ہدایت سائر

No comments:

Post a Comment