Wednesday, 8 December 2021

محبت کا کسی صورت کوئی پہلو نہیں نکلے

 محبت کا کسی صورت کوئی پہلو نہیں نکلے

سیاست چاہتی ہے پھول سے خوشبو نہیں نکلے

نہ جانے مصلحت کی کون سی چادر میں لپٹے ہیں

اندھیرا بڑھ گیا لیکن ابھی جگنو نہیں نکلے

سنا ہے درد گھٹ جاتا ہے جب انسان روتا ہے

مگر وہ کیا کرے جس کے کبھی آنسو نہیں نکلے

محبت کے مسافر کو ترستی ہی رہی بستی

کبھی صوفی نہیں نکلے، کبھی سادھو نہیں نکلے

تھکن سے چُور ہو کر گر گیا بستر پہ میں اپنے

مگر اب تک تِری تصویر سے بازو نہیں نکلے


وسیم نادر

No comments:

Post a Comment