محبت کا کسی صورت کوئی پہلو نہیں نکلے
سیاست چاہتی ہے پھول سے خوشبو نہیں نکلے
نہ جانے مصلحت کی کون سی چادر میں لپٹے ہیں
اندھیرا بڑھ گیا لیکن ابھی جگنو نہیں نکلے
سنا ہے درد گھٹ جاتا ہے جب انسان روتا ہے
مگر وہ کیا کرے جس کے کبھی آنسو نہیں نکلے
محبت کے مسافر کو ترستی ہی رہی بستی
کبھی صوفی نہیں نکلے، کبھی سادھو نہیں نکلے
تھکن سے چُور ہو کر گر گیا بستر پہ میں اپنے
مگر اب تک تِری تصویر سے بازو نہیں نکلے
وسیم نادر
No comments:
Post a Comment