وقت کی جو پیروں میں بیڑیاں نہیں ہوتیں
آپ سے کبھی اتنی دوریاں نہیں ہوتیں
میں جنوں نوازی سے تنگ آ گیا اے دل
مجھ سے اب گریباں کی دھجیاں نہیں ہوتیں
بحر عشق بس تم سے حوصلے کا طالب ہے
آگ کے سمندر میں کشتیاں نہیں ہوتیں
یہ شجر سیاسی ہیں ان سے چھاؤں مت مانگو
ان میں ٹہنیاں تو ہیں،۔ پتیاں نہیں ہوتیں
یہ نہ دیکھ پائیں گے مُفلسوں کی مجبوری
اہلِ زر کی آنکھوں میں پُتلیاں نہیں ہوتیں
وقت کی شکایت تو بس وہ لوگ کرتے ہیں
نبضِ وقت پر جن کی اُنگلیاں نہیں ہوتیں
وہ تو خُود زمانے کا اعتماد کھوتے ہیں
بند جن کے ہاتھوں کی مُٹھیاں نہیں ہوتیں
جب کوئی مقابل ہو یہ خیال بھی رکھیے
دُشمنوں کے ہاتھوں میں چُوڑیاں نہیں ہوتیں
بیج بو کے نفرت کے چاہتے ہو ہمدردی
یوں حسن! محبت کی کھیتیاں نہیں ہوتیں
حسن فتحپوری
حسن مصطفیٰ رضوی
No comments:
Post a Comment