Wednesday, 8 December 2021

بھلا کر یاد کرنا پھر بھلا دینا بہانے سے

 بُھلا کر یاد کرنا، پھر بُھلا دینا بہانے سے

مجھے یہ درد سہنا پڑ رہا ہے اک زمانے سے

گل و بلبل، سمندر، چاند، تارے سب بجا لیکن

نظارے پُر کشش لگنے لگے ہیں ان کے آنے سے

وصالِ یار! مدت ہو گئی سینے سے لگ جاؤ

دلِ بے تاب گھٹ گھٹ مر رہا ہے آزمانے سے

ہزاروں تتلیاں رقصاں درونِ ذات ہیں پھر بھی

مجھے آرام ملتا ہے کسی کے سُر لگانے سے


شمیم قاسمی

No comments:

Post a Comment