راہزن ہی تو ہے، راہبر ہی تو ہے
خوف کیوں کھائیے، ہمسفر ہی تو ہے
ہم شراروں کو جگنو سمجھنے لگے
اپنی اپنی بساطِ نظر ہی تو ہے
سن رہا ہوں کہ وہ میرے گھر آئیں گے
میں نے مانا مگر یہ خبر ہی تو ہے
گونگے الفاظ ہیں آج جانِ سخن
یہ نئی شاعری کا اثر ہی تو ہے
صبر کر، غم نہ کھا، صبحِ نو آئے گی
تیرگی اے میاں! رات بھر ہی تو ہے
سنگ برسا کے وہ اس طرح شاد ہیں
میرا سر جیسے شیشے کا گھر ہی تو ہے
اس ڈرنے کی کیا بات ہے اے شہود
وہ خدا تو نہیں،۔ بشر ہی تو ہے
شہود عالم آفاقی
No comments:
Post a Comment