Sunday, 7 May 2023

خواب آنکھوں میں سجاؤں تو مٹا دیتی ہے

 خواب آنکھوں میں سجاؤں تو مٹا دیتی ہے

زیست کس جرم کی آخر یہ سزا دیتی ہے

یاد آتی ہے لیے ہاتھ میں اشکوں کے چراغ

شام ہوتی ہے تو پلکوں پہ سجا دیتی ہے

تشنہ آنکھوں میں سمندر کے نظارے بھر کر

زیست جینے کا بھی انداز سکھا دیتی ہے

جب بھی اشکوں سے لکھوں دل کی حکایت آصف

اپنی پلکوں سے وہ تحریر مٹا دیتی ہے

جو زندگی کی حقیقت کو ہم سمجھنے لگے

تو عشق وشق کے قصے فضول لگنے لگے

ہماری قدر نہ کی جیتے جی کسی نے بھی

جو مرگئے تو سبھی یار ہاتھ ملنے لگے

ہمارے دل کے اجڑنے کی داستاں سن کر

در و دیوار سبھی گھر کے آہ بھرنے لگے

خدا کے فضل سے عزت ملی جو لوگوں میں

تو میرے یار مرے مرتبے سے جلنے لگے

ہماری سادہ دلی نے ہمیں خراب کیا

بہت سے لوگ ہمیں یار بن کے ڈسنے لگے

ہمیں وہ عشق کے رستے میں تنہا چھوڑ گئے

تو مثل ماہئی بےآب ہم تڑپنے لگے

ضرور دل میں کوئی اور بس گیا ہوگا

اسی لیے ہی ترے دل سے ہم اترنے لگے

جو ہم میں پھوٹ پڑی بدگمانیوں کی تو پھر

خزاں کے پتوں کی مانند ہم بکھرنے لگے

ہمارے ساتھ بھی رہ کروہ شخص خوش نہ رہا

خوشی سے اس لیے صادق ہمیں بچھڑنے لگے


امین صادق

No comments:

Post a Comment