خواب آنکھوں میں سجاؤں تو مٹا دیتی ہے
زیست کس جرم کی آخر یہ سزا دیتی ہے
یاد آتی ہے لیے ہاتھ میں اشکوں کے چراغ
شام ہوتی ہے تو پلکوں پہ سجا دیتی ہے
تشنہ آنکھوں میں سمندر کے نظارے بھر کر
زیست جینے کا بھی انداز سکھا دیتی ہے
جب بھی اشکوں سے لکھوں دل کی حکایت آصف
اپنی پلکوں سے وہ تحریر مٹا دیتی ہے
جو زندگی کی حقیقت کو ہم سمجھنے لگے
تو عشق وشق کے قصے فضول لگنے لگے
ہماری قدر نہ کی جیتے جی کسی نے بھی
جو مرگئے تو سبھی یار ہاتھ ملنے لگے
ہمارے دل کے اجڑنے کی داستاں سن کر
در و دیوار سبھی گھر کے آہ بھرنے لگے
خدا کے فضل سے عزت ملی جو لوگوں میں
تو میرے یار مرے مرتبے سے جلنے لگے
ہماری سادہ دلی نے ہمیں خراب کیا
بہت سے لوگ ہمیں یار بن کے ڈسنے لگے
ہمیں وہ عشق کے رستے میں تنہا چھوڑ گئے
تو مثل ماہئی بےآب ہم تڑپنے لگے
ضرور دل میں کوئی اور بس گیا ہوگا
اسی لیے ہی ترے دل سے ہم اترنے لگے
جو ہم میں پھوٹ پڑی بدگمانیوں کی تو پھر
خزاں کے پتوں کی مانند ہم بکھرنے لگے
ہمارے ساتھ بھی رہ کروہ شخص خوش نہ رہا
خوشی سے اس لیے صادق ہمیں بچھڑنے لگے
امین صادق
No comments:
Post a Comment