Wednesday, 3 November 2021

سلسلہ زخم زخم جاری ہے

 سلسلہ زخم زخم جاری ہے

یہ زمیں دور تک ہماری ہے

اس زمیں سے عجب تعلق ہے

ذرے ذرے سے رشتہ داری ہے

میں بہت کم کسی سے ملتا ہوں

جس سے یاری ہے اس سے یاری ہے

ناؤ کاغذ کی چھوڑ دی میں نے

اب سمندر کی ذمہ داری ہے

بیچ ڈالا ہے دن کا ہر لمحہ

رات تھوڑی بہت ہماری ہے

ریت کے گھر تو بہہ گئے لیکن

بارشوں کا خلوص جاری ہے

کوئی نظمی گزار کر دیکھے

میں نے جو زندگی گزاری ہے


اختر نظمی

No comments:

Post a Comment