Wednesday, 3 November 2021

ہم شب غم جو اشک بار رہے

 ہم شب غم جو اشکبار رہے

چاند تارے بھی بے قرار رہے

کون منت کشِ بہار رہے

ہاں یہ ویرانہ سازگار رہے

وہ ہی تسکین کا سہارا تھے

میں نے مانا کہ غم ہزار رہے

کبھی گلشن، کبھی بیاباں میں

ہم بہ ہر حال بے قرار رہے

ان کو راحت کی آرزو نہ ہوئی

جو تِرے غم سے ہمکنار رہے

وہ پشیماں نہیں جفا کر کے

ہم وفا کر کے شرمسار رہے


بسمل آغائی

No comments:

Post a Comment