ہم شب غم جو اشکبار رہے
چاند تارے بھی بے قرار رہے
کون منت کشِ بہار رہے
ہاں یہ ویرانہ سازگار رہے
وہ ہی تسکین کا سہارا تھے
میں نے مانا کہ غم ہزار رہے
کبھی گلشن، کبھی بیاباں میں
ہم بہ ہر حال بے قرار رہے
ان کو راحت کی آرزو نہ ہوئی
جو تِرے غم سے ہمکنار رہے
وہ پشیماں نہیں جفا کر کے
ہم وفا کر کے شرمسار رہے
بسمل آغائی
No comments:
Post a Comment