Tuesday, 22 June 2021

کب لوگوں نے الفاظ کے پتھر نہیں پھینکے

 کب لوگوں نے الفاظ کے پتھر نہیں پھینکے

وہ خط بھی مگر میں نے جلا کر نہیں پھینکے

ٹھہرے ہوئے پانی نے اشارہ تو کیا تھا

کچھ سوچ کے خود میں نے ہی پتھر نہیں پھینکے

اک طنز ہے کلیوں کا تبسم بھی مگر کیوں

میں نے تو کبھی پھول مسل کر نہیں پھینکے

ویسے تو ارادہ نہیں توبہ شکنی کا

لیکن ابھی ٹوٹے ہوئے ساغر نہیں پھینکے

کیا بات ہے اس نے مِری تصویر کے ٹکڑے

گھر میں ہی چھپا رکھے ہیں باہر نہیں پھینکے

دروازوں کے شیشہ نہ بدلوائیے نظمی

لوگوں نے ابھی ہاتھ سے پتھر نہیں پھینکے


اختر نظمی

No comments:

Post a Comment