خرد کو خانۂ دل کا نگہباں کر دیا ہم نے
یہ گھر آباد ہوتا اس کو ویراں کر دیا ہم نے
چھپو گے کیا دگر رنگِ شبستاں کر دیا ہم نے
کہ اپنے گھر کو پھونکا اور چراغاں کر دیا ہم نے
حریمِ ناز سے تم کو چُرا لانے کے مجرم ہیں
یہ صحرا تھا اسے بھی کوئے جاناں کر دیا ہم نے
نظر والو! ذرا چاکِ گریباں دیکھتے جاؤ
اسے چاکِ نقابِ روئے جاناں کر دیا ہم نے
کھنڈر میں ماہِ کامل کا سنورنا اس کو کہتے ہیں
تم اُترے دل میں جب دل کو بیاباں کر دیا ہم نے
امانت مانگتی تھی ہم سے سامانِ نگہداری
تمہیں کو شہر خاموشی کا درباں کر دیا ہم نے
اجتبیٰ رضوی
No comments:
Post a Comment