Tuesday, 22 June 2021

خرد کو خانۂ دل کا نگہباں کر دیا ہم نے

 خرد کو خانۂ دل کا نگہباں کر دیا ہم نے

یہ گھر آباد ہوتا اس کو ویراں کر دیا ہم نے

چھپو گے کیا دگر رنگِ شبستاں کر دیا ہم نے

کہ اپنے گھر کو پھونکا اور چراغاں کر دیا ہم نے

حریمِ ناز سے تم کو چُرا لانے کے مجرم ہیں

یہ صحرا تھا اسے بھی کوئے جاناں کر دیا ہم نے

نظر والو! ذرا چاکِ گریباں دیکھتے جاؤ

اسے چاکِ نقابِ روئے جاناں کر دیا ہم نے

کھنڈر میں ماہِ کامل کا سنورنا اس کو کہتے ہیں

تم اُترے دل میں جب دل کو بیاباں کر دیا ہم نے

امانت مانگتی تھی ہم سے سامانِ نگہداری

تمہیں کو شہر خاموشی کا درباں کر دیا ہم نے


اجتبیٰ رضوی

No comments:

Post a Comment