پاس آ تُو بھی دل میں اُتر بے خبر
دے کبھی مجھ کو اپنی خبر بے خبر
مجھ کو مُٹھی میں اپنی تو بھر ریت سا
میں نہ جاؤں کہیں یوں بکھر، بے خبر
چھوڑ آئینے کو جھانک آنکھوں میں تُو
عکس یاں دیکھ تُو بن سنور، بے خبر
موت کا بھی ہوا ہے کبھی کوئی ڈر
ڈرنا ہے زندگی سے تُو ڈر بے خبر
زندگی کی یہ تصویر دل کش لگے
رنگ ایسا تو اک شوخ بھر بے خبر
چھوڑ تنہا محبت کی رہ میں نہ یوں
دیکھ رستے جدا اب نہ کر بے خبر
عمر بھر خود سے ملنے کی چاہت رہی
میں بھٹکتا رہا در بدر، بے خبر
ارفع کنول
No comments:
Post a Comment