مٹی میں کون شے ہے جو ڈالی نہیں گئی
لیکن زمیں کی حِرصِ خصالی نہیں گئی
برسات اس قدر کہ میرے کھیت بہہ گئے
خیرات اس قدر کہ سنبھالی نہیں گئی
پنجرہ کُھلا تو پنجۂ صرصر میں آ گئے
اُڑ کے بھی اپنی بے پر و بالی نہیں گئی
بستی سے رزق اُٹھ گیا تو ہم بھی اُٹھ گئے
ہجرت مثالِ مرگ تھی ٹالی نہیں گئی
تقدیر تھی کہ تشنۂ ترمیم ہی رہی
تعبیر تھی کہ خواب میں ڈھالی نہیں گئی
اس نہر میں ہے اس لیے دریا دِلی کی لہر
نکلی ہے اپنے آپ نکالی نہیں گئی
شاہد چراغِ لمس میں اُتری نہ روشنی
جب تک کہ لَو کسی سے لگا لی نہیں گئی
شاہد ذکی
No comments:
Post a Comment