Thursday, 13 July 2023

ابھی مری سانس چل رہی ہے مجھے بچا لو

 ابھی مِری سانس چل رہی ہے مجھے بچا لو

کہ مجھ میں تھوڑی سی زندگی ہے مجھے بچا لو

بنا کے بم آدمی پکارا کہ میں ہوں محفوظ

اور آدمیت پکارتی ہے مجھے بچا لو

شجر کو جب کاٹنے لگے تو صدا یہ آئی

کہ مجھ میں شاخ اِک ابھی ہری ہے مجھے بچا لو

میں بچ گیا تو تمہیں بتاؤں گا رازِ ہستی

سمجھ لو وہ راز قیمتی ہے مجھے بچا لو

بڑی محبت سے جس کو تم نے کیا تھا تخلیق

تمہیں وہ تخلیق کہہ رہی ہے مجھے بچا لو

ہمیں بچا لو بچانے والوں سے کب کہا ہے

سبھی کے ہونٹوں پہ بس یہی ہے مجھے بچا لو

اسی لیے تو اندھیرے مجھ کو مٹانا چاہیں

کہ مجھ میں کچھ روشنی بچی ہے مجھے بچا لو

میں اِک عمارت کی چھت کو تھامے لٹک رہا ہوں

گرفت ڈھیلی سی پڑ رہی ہے مجھے بچاؤ

مجھے بچا کر تمہاری طاقت بڑھے گی تیمور

مجھے بچانے میں بہتری ہے مجھے بچا لو


تیمور حسن تیمور

No comments:

Post a Comment