محبت کی ہے فطرت آگ لہکائے گی پانی میں
یہ وہ مچھلی ہے جو تنہا نہیں جائے گی پانی میں
کنول کے پھول کی چاہت اسے لائے گی پانی میں
لبِ جُو منتظر ہوں میں کہ وہ آئے گی پانی میں
مجھے کیا غم ہے جو فرعون پیچھے سامنے دریا
عصا سے کام لوں گا راہ بن جائے گی پانی میں
ہمارا سر اگر ننگا ہے تو اچھا ہے اس سر سے
کہ اس کی کاغذی دستار گل جائے گی پانی میں
مجھے معلوم ہے کشتی بھنور میں ڈوب جاتی ہے
مگر کیا کیجیۓ کشتی ہے تو جائے گی پانی میں
گھٹاؤں کے برسنے کی دعا مت مانگ اے اشرف
تِری اوقات مٹی کی ہے بہہ جائے گی پانی میں
اشرف یعقوبی
No comments:
Post a Comment