کسی کے تکیۂ احساں پہ اپنا سر رکھنا
مجھے عجیب سا لگتا ہے یہ ہنر رکھنا
یہ کام عطر فروشوں کو زیب دیتا ہے
عرق گلوں کے بدن سے اتار کر رکھنا
شمار شوقِ نظر میں یہ خو نہیں آتی
کسی کے تاج محل پہ بری نظر رکھنا
حسیں خیال کا پیکر غزل کے شعروں میں
کسی کی زلف سے سیکھا ہے باندھ کر رکھنا
چراغ شہ پہ ہوا کی بھڑک بھی سکتا ہے
گھروں کے طاق پہ اس کو سنبھال کر رکھنا
یہ کام میرے لیے تو محال ہے اشرف
لبوں کی پیاس کو وعدوں سے روز تر رکھنا
اشرف یعقوبی
No comments:
Post a Comment