Saturday, 13 November 2021

کسی کے تکیۂ احساں پہ اپنا سر رکھنا

 کسی کے تکیۂ احساں پہ اپنا سر رکھنا

مجھے عجیب سا لگتا ہے یہ ہنر رکھنا

یہ کام عطر فروشوں کو زیب دیتا ہے

عرق گلوں کے بدن سے اتار کر رکھنا

شمار شوقِ نظر میں یہ خو نہیں آتی

کسی کے تاج محل پہ بری نظر رکھنا

حسیں خیال کا پیکر غزل کے شعروں میں

کسی کی زلف سے سیکھا ہے باندھ کر رکھنا

چراغ شہ پہ ہوا کی بھڑک بھی سکتا ہے

گھروں کے طاق پہ اس کو سنبھال کر رکھنا

یہ کام میرے لیے تو محال ہے اشرف

لبوں کی پیاس کو وعدوں سے روز تر رکھنا


اشرف یعقوبی

No comments:

Post a Comment