Saturday, 13 November 2021

آج پھر ہجر کا بادل میرے گھر آیا ہے

 آج پھر ہجر کا بادل میرے گھر آیا ہے

دینے کو میری محبت کا ثمر آیا ہے

ظلم کی آنکھوں میں ڈھلتے ہوئے سورج کا کلام

سنتے ہیں کوہِ سماعت میں اُتر آیا ہے

آبلہ پائی نے ہر کوس پہ رکھا ہے گُہر

شہرِ خُوباں کی سفارت کا گجر آیا ہے

سُر محبت کے جو بکھرے تو یہ معلوم ہوا

درد کی سانسوں میں بسنے کو بشر آیا ہے

جب سے اترے ہیں کنول آب کے ایوانوں میں

آب زاروں کو سنورنے کا ہنر آیا ہے


ایم زیڈ کنول

No comments:

Post a Comment