محبت میں الزام کیا دیکھتا ہے
یہ آغاز و انجام کیا دیکھتا ہے
یہاں رہگزر کے سوا کچھ نہیں ہے
یہ مڑ مڑ کے ہر گام کیا دیکھتا ہے
ابھی تو بہت دور چلنا ہے تجھ کو
گھڑی بھر کا آرام کیا دیکھتا ہے
شکم کی اسیری سے آزاد ہو جا
یہ دانہ تہ دام کیا دیکھتا ہے
ادب ساقیا کا کہاں تک کرے گا
اٹھا لے کوئی جام کیا دیکھتا ہے
جہاں میں بڑی چیز ہے دل کی مستی
چھلکتا ہوا جام کیا دیکھتا ہے
تصور میں تاباں یہ کھویا ہوا سا
افق پر سرِ شام کیا دیکھتا ہے
نہال تاباں
No comments:
Post a Comment