Monday, 17 January 2022

کبھی آواز لگاتا ہوں کوئی ہے کوئی ہے

کبھی آواز لگاتا ہوں کوئی ہے، کوئی ہے

کبھی سرگوشیاں کرتا ہوں کوئی ہے کوئی ہے

خالی سیٹوں پہ میں رکھا ہوا رومال ہوں کیا

ہر مسافر کو بتاتا ہوں کوئی ہے، کوئی ہے

جیسے بچوں کو ڈراتے ہیں میں اکثر خود کو

یہی کہہ کہہ کہ ڈراتا ہوں کوئی ہے کوئی ہے

پہلے لے لیتا ہوں چپ چاپ میں رخصت خود سے

اور پھر شور مچاتا ہوں کوئی ہے کوئی ہے

میں ہوں شاید کسی ملبے سے سرکتا ہوا ہاتھ

چیختا رہتا ہوں زندہ ہوں کوئی ہے کوئی ہے

تُو اگر کوئی نہیں  ہے تو بتا دے مجھ کو

میں اسی وہم میں رہتا ہوں کوئی ہے کوئی ہے

پوچھتے پوچھتے تھک جاتی ہے خلقت تِرا نام

میں مسلسل یہی کہتا ہوں کوئی ہے کوئی ہے

تُو اگر ہے بھی تو کیا ہے جو نہیں ہے بھی تو کیا

جتنا میں بھیڑ میں تنہا ہوں  کوئی ہے کوئی ہے


جاوید صبا

No comments:

Post a Comment